Maktaba-tul-Hadith homepage
Search Monthly AlHadees Hazro

ماہِ رمضان اور ہم

فضیلۃ الشیخ ابو ظفیر حافظ محمد ندیم ظہیر حفظہ اللہ


ایک مرتبہ پھروہی رحمتوں، برکتوں، سعادتوں اور مغفرتوں کا مہینہ ہمارے سروں پر سایہ فگن ہے اور یہ تقاضا کر رہا ہے کہ دیکھنا کہیں ہمیشہ کی طرح اس بار بھی میری تما م تر فضیلتیں سمیٹنے سے محروم نہ رہ جانا ……شاید یہ زندگی کا آخری رمضان ہو…… دوبارہ ایسا بابرکت مہینہ نصیبے میں نہ ہو…… کیا تم دیکھتے نہیں کتنے ہی ایسے ہیں جو تمھارے ساتھ سحری وافطاری میں شریک ہونے والے اور قیامِ رمضان میں ساتھ کھڑے ہونے والے لیکن …… آج نظر نہیں آرہے! کیوں؟…… اس لیے کہ ان کا مقررہ وقت پورا ہو چکا ہے۔

﴿وَلَنْ یُّؤَخِّرَاللہُ نَفْسًا اِذَاجَآءَ اَجَلُھَاط﴾ کی صدا آ چکی ہے بلکہ اب تو تم بھی …… اسی قطار میں کھڑے نظر آتے ہو،عنقریب …… تمھاری باری بھی آنے والی ہے پھر کیوں نہ اس زندگی کے بقیہ لمحات و ساعات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو بدل دیں!

معصیت و نافرمانی کی دلدل سے نکل کر زہد و تقویٰ کے تالاب میں غوطہ زن ہوں، لیکن کیسے؟ ہم اپنی زندگیوں میں کس طرح انقلاب لائیں؟ …… ہاں!…… رب کریم نے ہمیں ایک بہترین موقع عطا کیا ہے اور وہ ’’ماہ رمضان‘‘ ہے۔ ایک اور بات…… کہ ہم کس طرح اس مہینے کے شب و روز گزاریں تاکہ ہمارا رب رحیم ہم سے راضی ہو جائے اور ہمارے اعمال اس کے ہاں مقبول قرار پائیں؟تو پھر ضروری ہے کہ درج ذیل باتوں کو ملحوظ رکھاجائے:

توبہ:

سب سے پہلے اپنی سابقہ زندگی پر ایک نظر ڈالیں کہ جس قدر بھی گناہ ہوئے ہیں، اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے خواہ قولاً ہے یا عملاً تو ان سب سے اپنے اللہ کے حضور سچے دل سے توبہ کریں، توبہ کا مفہوم ہی یہ ہے کہ گناہ کے کاموں سے لوٹنا، گناہ کا اعتراف اور آئندہ کبھی نہ کرنے کا عزم کرنا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾

اے ایمان والو! اللہ کے حضور خالص توبہ کرو کچھ بعیدنہیں کہ تمھارا پروردگار تم سے تمھاری برائیاں دور کر دے اور تمھیں ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بَہ رہی ہیں۔ [التحریم: 8]

ہو سکے تو خوفِ الہی سے چند قطرے آنسوؤں کے بھی شامل کر لیں کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا: وہ شخص جہنم میں نہیں جائے گا جو اللہ کے ڈر سے رویا۔ [ترمذی: 1633، صحیح]

نیز آپ ﷺ نے فرمایا: سات قسم کے لوگوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنا سایہ عطا کرے گا۔ ان میں سے ایک وہ شخص ہے ’’جسے تنہائی میں اللہ یاد آئے اور اس کے آنسو جاری ہو جائیں‘‘ (بخاری: 660، مسلم: 1031)

حصولِ تقویٰ:

گناہوں کو چھوڑنے اور نیکی کے کام کرنے پر طبیعت کا مائل ہونا اور اپنے گناہوں کے انجام سے ڈر کر ان سے بچنے کی کوشش کرنا تقویٰ ہے اور ماہِ رمضان کا بڑا اوراہم مقصد تقویٰ کا حصول ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ﴾

اے ایمان والو! تم پر رمضان کے روزے فرض کر دیئے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر بھی فرض کئے گئے تھے (اور اس کا مقصد یہ ہے) کہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔ [البقرۃ: 183]

تقویٰ اختیار کرنے کے دنیاوی و اُخروی بہت زیادہ فوائد ہیں جس کا تذکرہ قرآن و سنت میں جا بجا ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَمَنْ یَّتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًالا وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ﴾

جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے (مشکلات سے) نکلنے کا راستہ آسان کر دیتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دیتاہے جہاں سے اس کو وہم وگمان بھی نہیں ہوتا۔ [الطلاق: 2،3]

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ سے ڈرو، اپنی پانچوں نمازیں ادا کرو، اپنے (رمضان کے) مہینے کے روزے رکھو، اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا کرو، اپنے حاکموں کی اطاعت کرو! تو تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤگے۔ [ترمذی: 616، حسن]

روزے کی حفاظت:

روزے کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ اگر ہم نے اس سلسلے میں سُستی و کاہلی کا ثبوت دیا اور صحیح طریقے سے روزے کی حفاظت نہ کر سکے تو ہم اس کی فضیلتوں اور برکتوں سے محروم رہ سکتے ہیں۔ اس لیے لازم ہے کہ (روزے کے اجروثواب کو ختم کرنے والے اعمال مثلاً) جھوٹ، بہتان چغلی، غیبت اور لڑائی جھگڑے سے بچا جائے خصوصاً زبان کی حفاظت کی جائے اور تقویٰ اختیار کیا جائے۔

نبی ﷺ نے فرمایا: کتنے ہی روزے دار ایسے ہیں جنھیں پیاس کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا اور کتنے ہی قیام (اللیل) کرنے والے ایسے ہیں جنھیں بیداری کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ [ابن ماجہ: 1690، دارمی: 2722، اسنادہ حسن]

یعنی جوشخص بھی مذکورہ خرافات سے نہیں بچتا اس کا روزہ اسے کچھ فائدہ نہیں دیتا۔

نیز نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل نہیں چھوڑتا تو اللہ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ [بخاری: 1903]

قیام اللیل:

اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو مربوط کرنے کا اہم ذریعہ قیام اللیل ہے اور رمضان میں قیام اللیل فضیلت کے لحاظ سے اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے قیام رمضا ن کرتا ہے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ [بخاری: 37]

یہاں ایک بات کا خیال رہے کہ بعض حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ ’’قیام رمضان اکیلے اور گھر میں کرنا زیادہ بہتر ہے لہٰذا ہم گھر میں قیام کریں گے‘‘ لیکن وہ بیچارے ساری رات بسترپر سوئے ہی گزار دیتے ہیں (اِلاماشاء اللہ) اور بعض حضرات قیامِ رمضان باجماعت کو سنت سمجھنے سے ہی انکاری ہیں!۔

ایسے حضرات کی اصلاح کے لیے اس لمبی حدیث کا ایک حصہ پیش خدمت ہے جو آپ ﷺ نے قیامِ رمضان کے بارے میں فرمایا تھا: ’’یقینا جب آدمی امام کے ساتھ نماز پڑھ کر فارغ ہو جاتا ہے تو بقیہ رات (بھی ثواب کے لحاظ سے) قیام ہی میں شمار کی جاتی ہے۔‘‘ [ابو داود: 1375، ترمذی: 806، نسائی: 1365، ابن ماجہ: 1337 واسنادہ صحیح]

امید ہے کہ اس قدر قیام رمضان باجماعت کی فضیلت جان کر حیلوں اور بہانوں سے احتراز کیا جائے گا۔

تلاوتِ قرآن مجید کی کثرت:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قرآن (کثرت سے) پڑھا کرو، اس لیے کہ قیامت والے دن یہ اپنے (پڑھنے والے) ساتھیوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا۔ [مسلم: 804]

یہ حقیقت ہے کہ اجر و ثواب کے لحاظ سے ماہ رمضان میں کیا ہوا عمل زیادہ افضل ہے لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ رمضان میں تو خوب قرآن پڑھتے اور سنتے ہیں اور دیگر مہینوں میں قرآن مجید چھونے کی توفیق بھی نہیں ہوتی۔ (والعیاذباللہ)

ذکرِ الہی سے زبان تر رکھنا:

لغویات و فضولیات کو ترک کر کے ہمیشہ اپنی زبان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رکھنا چاہیے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے تمام اوقات میں اللہ کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔ [مسلم: 373]

دوسرے مقام پرآپ ﷺ نے فرمایا: تیری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رہنی چاہئے۔ [ابن ماجہ: 3793 واسنادہ حسن]

صبح و شام کے اذکار کی بھی پابندی کرنی چاہیے جیسا کہ دیگر دلائل سے ثابت ہے۔

اعتکاف:

رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنا سنتِ نبوی ہے اور یہ تزکیۂ نفس کا بہترین ذریعہ ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ [بخاری: 2025، مسلم: 11171]

آخری عشرہ:

اس عشرے میں اپنی تمام تر توانائی اس پہ خرچ کر دینی چاہیے کہ ہم سے ہمارا اللہ راضی ہو جائے اور ہماری کمیوں، کوتاہیوں اور خطاؤں سے درگزر فرما دے اور نیکیوں کے حصول میں اضافہ اور جذبۂ سبقت ہو۔ آخری عشرے میں رسول اللہ ﷺ بھلائی میں تیز ہوا سے بھی زیادہ سخاوت کرتے تھے۔ [بخاری: 6، مسلم: 2308]

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب (آخری) عشرہ شروع ہو جاتا تو رسول اللہ ﷺ شب بیداری فرماتے اور اپنے گھروالوں کو بھی بیدارکرتے اور (عبادت کے لیے) کمر کس لیتے۔ [بخاری: 2224، مسلم: 1774]

لیلۃ القدر:

اسی عشرے میں لیلۃ القدر ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿ اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ - وَمَآاَدْرٰکَ مَالَیْلَۃُ الْقَدْرِ - لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ ﴾

ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا اور آپ کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ [القدر:1،3]

لہٰذا آخری عشرے میں لیلۃ القدر کو تلاش کرنا چاہیے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص لیلۃ القدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کرے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ [بخاری:2008، مسلم:760]

نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ [بخاری: 2020]

ایک اہم بات:

جو سلسلہ رمضان کی مبارک ساعتوں میں قائم کیا جائے وہ بقیہ گیارہ مہینوں میں بھی برقرار رہنا چاہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ جوشخص رمضان میں قیام اللیل اور اشراق وغیرہ تک کی پابندی کرتا تھا وہ غیر رمضان میں فرض نماز بھی چھوڑ بیٹھے اور پھر اسی معصیت و نافرمانی کی دلدل میں جاگرے جہاں پہلے پھنسا ہوا تھا اور مہینے بھرکے ’’اعمالِ صالحہ‘‘ کی کمائی اکارت کردے۔ (والعیاذ باللہ)

اس لئے ضروری ہے کہ اس مبارک مہینے میں اپنا احتساب کرتے ہوئے ہمیشہ کے لئے صراطِ مستقیم کا احتساب کر لیں اور اپنا ہر لمحہ ہر لحظہ قرآن و سنت کے مطابق گزار کر آخرت میں اللہ کے ہاں سرخ رو ہو جائیں۔ ان شاء اللہ

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے دین کے لیے چن لے اور ہم سے راضی ہو جائے (آمین)

اصل مضمون کے لئے دیکھیں ماہنامہ الحدیث شمارہ 29 صفحہ 2 تا 6

شیئر کریں:

آج کی حدیث