Maktaba-tul-Hadith homepage
Search Monthly AlHadees Hazro

نماز جنازہ میں ایک طرف سلام پھیرنا اور ہمارے اسلاف


٭ نافع رحمہ اللہ کا بیان ہے، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب نماز جنازہ پڑھتے تو رفع یدین کرتے، پھر تکبیر کہتے۔ جب (تکبیرات وغیرہ سے) فارغ ہوتے تو اپنی دائیں جانب ایک سلام پھیرتے تھے۔ (مصنف ابن أبي شیبۃ ۳۰۷/۳ ح ۱۱۴۹۱ وسندہ صحیح)

٭ امام مکحول رحمہ اللہ بھی نماز جنازہ میں ایک ہی سلام پھیرتے تھے۔ دیکھئے مصنف ابن أبي شیبۃ (۳۰۸/۳ ح ۱۱۵۰۶ وسندہ صحیح)

٭ امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے بھی جنازے میں ایک سلام پھیرنے کا ثبوت ملتا ہے۔ (مصنف ابن أبي شیبۃ ۳۰۷/۳ ح ۱۱۴۹۶ وسندہ صحیح)

٭ امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص نماز جنازہ میں دو سلام پھیرتا ہے وہ جاہل ہے، وہ جاہل ہے۔ (مسائل أبي داود ص ۱۵۴ وسندہ صحیح)

٭ امام ابو عبد اللہ محمد بن نصر المروزی (متوفی ۲۹۴ھ) رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَکِ وَعَامَّۃُ أَہْلِ الْحَدِیْثِ: تَسْلِیْمَۃٌ وَاحِدَۃٌ ۔‘‘ یعنی امام عبد اللہ بن مبارک اور عام اہل حدیث اسی کے قائل ہیں کہ جنازے میں صرف ایک ہی سلام ہے۔ (اختلاف العلماء ص۶۴)

امام مروزی رحمہ اللہ کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور میں تقریباً عام اہل حدیث کا اتفاق رہا ہے کہ جنازے میں ایک ہی سلام ہے۔

اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ جنازے میں دو سلام پھیرنے سے متعلق نہ تو کوئی مرفوع حدیث صحیح ہے اور نہ کسی صحابی کا ہی عمل ہے، بلکہ تابعین میں سے بھی ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے علاوہ کسی تابعی سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ امام ابن المنذر رحمہ اللہ نے فرمایا: ابو امامہ (سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ) کی حدیث کی بنا پر مجھے ایک طرف ہی سلام پھیرنا پسند ہے، کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی اسی پر (عمل پیرا) ہیں، اور وہ دوسروں سے زیادہ سنت کا علم رکھتے ہیں، وہ نبی کریم ﷺ کی نماز میں حاضر رہے اور انھوں نے آپ سے (طریقہ نماز) یاد کیا، ان میں سے جن سے بھی ہم نے روایت کی، وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ بلاشبہ (جنازے میں) ایک ہی سلام ہے اور اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایک سلام پھیرنے سے وہ نماز سے فارغ ہو جائے گا۔ (الأوسط لابن المنذر ۴۹۳/۵، ۴۹۴)

گویا امام ابن منذر رحمہ اللہ نے نماز جنازہ میں ایک سلام پر اہل علم کا اجماع نقل کیا۔

الشیخ نوح عالم بن عبد الستار البخاری المدنی حفظہ اللہ لکھتے ہیں: ’’تمام ائمہ کرام اس بات پر متفق ہیں کہ نماز جنازہ میں ایک سلام کا پھیرنا واجب اور ضروری ہے، بغیر اس کے نماز نہیں ہوتی، لیکن اختلاف صرف دو سلام کے جواز و استحباب میں ہے۔‘‘ (بغیۃ أھل الحاجۃ …… ص ۲۰)

ہماری تمام اُن اہل علم سے گزارش ہے جن کے نزدیک جنازے میں ایک سلام پھیرنا ثابت ہے کہ وہ اس سنت کے احیا کے لیے اقدام کریں، کیونکہ یہ سنت بالخصوص برصغیر پاک و ہند میں مفقود ہو چکی ہے، نہ کہ اس سنتِ ثابتہ کے خلاف مناظرے ومجادلے کیے جائیں۔ یاد رہے سنت کے احیا سے فتنے ختم ہوتے ہیں نہ کہ وجود میں آتے ہیں۔ تدبر جدًا

تنبیہ:

بعض لوگ خاص دلائل کے مقابلے میں عام دلائل سے استدلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ اصول فقہ کا مسلم اصول ہے کہ خاص کے مقابلے میں عام سے استدلال جائز نہیں۔

راجح موقف:

قارئین کرام! ہم نے دونوں طرف کے دلائل ذکر کیے ہیں، لیکن ہمارے نزدیک راجح یہی ہے کہ جنازے میں ایک ہی سلام پھیرا جائے کیونکہ مرفوع احادیث، عمل صحابہ و تابعین اور جمہور اہل علم کا اتفاق، اسی بات کی دلیل ہے اور اس کے برعکس غیر ثابت روایات ہیں جو قابل حجت و استدلال نہیں۔ واللہ أعلم

تفصیل کے لئے دیکھئے فضیلۃ الشیخ ابو ظفیر محمد ندیم ظہیر حفظہ اللہ کا مضمون ’’نمازِ جنازہ میں سلام پھیرنے کا مسنون طریقہ‘‘


aaj ki hadees/hadith by zubair ali zai rahimahullah