Maktaba-tul-Hadith homepage
Search Monthly AlHadees Hazro

سلف صالحین اور بعض مسائل میں اختلاف


بعض لوگ اپنے خُفیہ مقاصد کے لئے بعض اہلِ حدیث (یعنی اہلِ سنت) علماء کے درمیان چند مسائل میں اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پُلَندوں کی شکل میں اس انداز سے پیش کرتے ہیں، گویا کہ کفر و اسلام کا مسئلہ ہو، حالانکہ بعض اجتہادی مسائل میں اختلاف ہو جانا حرام نہیں بلکہ جائز ہے۔

اہلِ سنت کا اتفاق ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اہلِ حق، طائفۂ منصورہ اور جَنتی جماعت ہے اور اسی طرح اُن کے متبعین باحسان تابعینِ عظام رحمہم اللہ اجمعین بھی اہلِ حق اور طائفہ منصورہ ہیں۔

اہلِ حق اور طائفۂ منصورہ ہونے کے باوجود صحابہ اور تابعین کا کئی مسائل میں اختلاف تھا، جس کی تفصیل شاہ ولی اللہ احمد بن عبد الرحیم الدہلوی (متوفی ۱۱۷۶ھ) کی کتاب:’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ (ج۱ص ۱۴۰۔ ۱۴۴، باب اسباب اختلاف الصحابۃ والتابعین فی الفروع)

امام ابو عیسیٰ الترمذی رحمہ اللہ نے نمازِ مغرب سے پہلے دو رکعتوں کے بارے میں فرمایا: مغرب سے پہلے نماز کے بارے میں نبی ﷺکے صحابہ کے درمیان اختلاف ہوا: پس اُن میں سے بعض مغرب سے پہلے نماز کے قائل نہیں تھے اور نبی ﷺکے کئی صحابہ سے مروی ہے کہ وہ مغرب کی نماز سے پہلے اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ (سنن الترمذی ح ۱۸۵، باب ماجاء فی الصلوٰۃ قبل المغرب)

امام ابو بکر محمد بن ابراہیم بن المنذر النیسابوری رحمہ اللہ (متوفی ۳۱۸ھ) نے فرمایا:رسول اللہ ﷺکے صحابہ اور اُن کے بعد آنے والوں میں، جسے آگ چُھو لے اس (کے کھانے) سے وضو کے بارے میں اختلاف ہے۔ إلخ (الاوسط فی السنن والاجماع والاختلاف ج۱ص ۲۱۳، الوضوء مما مست النار)

مَنی کے بارے میں ابو جعفر الطحاوی رحمہ اللہ نے فرمایا:نبی ﷺکے صحابہ کا اس کے بارے میں اختلاف ہے….. (شرح معانی الآثار ج۱ص ۵۲ باب حکم المنی ھل ھو طاھر أم نجس؟)

امام ابو زرعہ الرازی رحمہ اللہ (متوفی ۲۶۴ھ) نے فرمایا:مَردوں اور عورتوں کے زخموں کے بارے میں نبی ﷺ کے صحابہ نے اختلاف کیا….. (شرف اصحاب الحدیث للخطیب:۱۵۳، وسندہ صحیح، کتاب الضعفاء لابی زرعہ الرازی ج۲ص ۷۷۳)

ان چار گواہیوں سے معلوم ہوا کہ صحا بۂ کرام رضی اللہ عنہم کا آپس میں بعض اجتہادی مسائل میں اختلاف ہوا تھا لہٰذا اہلِ حق کے درمیان بعض مسائل میں اختلاف ہو جانا قابلِ رَد و مذمت نہیں بلکہ جائز ہے اور ہر ایک کو اپنی نیت کے مطابق ثواب ملے گا۔ ان شاء اللہ

یاد رہے کہ اختلافِ تناقض و تعارض کی صورت میں حق صرف ایک طرف ہوتا ہے اور اہلِ حق کا دوسرا فریق اس مسئلے میں مجتہد مخطئ ہونے کی وجہ سے ماجور ہوتا ہے یعنی اُسے ایک اجر ملتا ہے۔اب قطع نظر اس سے کہ راجح کیا ہے اور مرجوح کیا ہے؟ صحابۂ کرام اور تابعینِ عظام کے درمیان اختلاف میں سے بعض اختلافات کے بیس (۲۰)سے زائد حوالے پیشِ خدمت ہیں:

حوالہ نمبر 1:

جس شخص پر جنابت کی وجہ سے غسل فرض ہو اور اسے پانی نہ ملے تو کیا کرے؟

اس کے بارے میں سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ نماز نہیں پڑھے گا حتیٰ کہ پانی پالے۔ (صحیح بخاری ج۱ص ۵۰ ح ۳۴۶)

جبکہ سیدنا ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ نے اس مسئلے میں اُن کے مقابلے میں قرآن مجید کی آیت سے استدلال کیا تو ’’فما دری عبداللہ ما یقول‘‘ عبداللہ (رضی اللہ عنہ) کو معلوم نہ ہوا کہ کیا کہیں؟ (حوالہ مذکورہ ح ۳۴۶)

حوالہ نمبر 2:

اگر عورت حائضہ یا جُنبیہ نہ ہو تو سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ اُس کے جُوٹھے پانی سے (وضو کرنے میں) کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج۱ص ۳۳ ح ۳۴۷ وسندہ صحیح)

جبکہ سیدنا حکم (بن عمرو) الغفاری رضی اللہ عنہ نے عورت کے استعمال سے باقی ماندہ پانی سے منع فرمایا۔ (ابن ابی شیبہ ۱/ ۳۴ ح ۳۵۵ وسندہ صحیح)

حوالہ نمبر 3:

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’لا تدخل الحمام ….‘‘ حمام میں د اخل نہ ہو…. (ابن ابی شیبہ ۱/ ۱۰۹ ح ۱۱۶۵، وسندہ صحیح)

جبکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جُحفہ کے حمام میں داخل ہوئے۔ (ابن ابی شیبہ ۱/ ۱۰۹ ح ۱۱۶۹، وسندہ صحیح)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حمام بہترین گھر ہے، میل کُچیل دُور کر دیتا ہے اور (جہنم کی) آگ یاد دلاتا ہے۔ ( ابن ابی شیبہ ۱/ ۱۰۹ح ۱۱۷۰، وسندہ صحیح)

حوالہ نمبر 4:

سمندر کے پانی کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے نزدیک سمندر کے پانی سے وضو کرنے سے تیمم (کرنا) بہتر ہے۔ (ابن ابی شیبہ ۱/ ۱۳۱ ح ۱۳۹۳ ، وسندہ صحیح)

جبکہ سیدنا ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ نے سمندر کے پانی سے وضو کے بارے میں فرمایا:اس کا پانی پاک ہے اور مُردار (مچھلی) حلال ہے۔ (ابن ابی شیبہ ۱/ ۱۳۰ ح ۱۳۷۹، وسندہ صحیح)

حوالہ نمبر 5:

عمیر بن سعد (ثقہ تابعی) سے روایت ہے کہ میں اُس مجلس میں بیٹھا ہوا تھا جس میں عمار بن یاسر (رضی اللہ عنہ) موجود تھے، اُن سے نماز میں ذَکر کے چُھونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا: یہ تیرے جسم کا ایک ٹکڑا ہی تو ہے۔۔۔ الخ (ابن ابی شیبہ ۲/ ۲۰۲ ح ۱۷۵۴، نسخہ محمد عوامہ وسندہ صحیح)

جبکہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب اپنی شرمگاہ (ذَکر) کو (ہاتھ سے) چُھوتے تو دوبارہ وضو کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ نسخہ محمد عبدالسلام شاہین ۱/ ۱۹۴ ح ۱۷۳۳، وسندہ صحیح)

یعنی ایک صحابی مسِ ذکر سے وضو ٹوٹنے کے قائل نہیں تھے اور دوسرے وضو ٹوٹنے کے قائل تھے۔

حوالہ نمبر 6:

چمڑے کے موزوں پر مسح کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:اگر میں انھیں چُھریوں سے کاٹ ڈالوں تو یہ میرے لئے بہتر ہے اس سے کہ میں ان پر مسح کروں۔ (ابن ابی شیبہ ۱/ ۱۸۵ ح ۱۹۴۴، وسندہ صحیح)

معلوم ہوا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا موزوں پر مسح کی قائل نہیں تھیں۔

دوسری طرف سیدنا سعد (بن ابی وقاص) رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان (موزوں) پر مسح کرو۔ (ابن ابی شیبہ ۱/ ۱۸۰ ح ۱۸۸۶، وسندہ صحیح)

عاصم (ثقہ تابعی) نے فرمایا: میں نے انس (رضی اللہ عنہ) کو موزوں اور پگڑی پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ (ابن ابی شیبہ ۱/ ۲۲ ح ۲۲۴ وسندہ صحیح)

حوالہ نمبر 7:

رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں نمازِ جمعہ کی دو اذانیں ہوتی تھیں: ایک خطبے کے وقت اذان اور دوسری: نماز کے وقت اقامت، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے خطبے والی اذان سے پہلے ایک اذان کو جاری کر دیا۔ دیکھئے صحیح بخاری (ج۱ص ۱۲۴ح ۹۱۲، ۹۱۳)

اس اذانِ عثمانی کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جمعہ کے دن پہلی اذان بدعت ہے۔ (ابن ابی شیبہ ۲/ ۱۴۰ ح ۵۴۳۶)

دوسری طرف یہ روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر بدعت گمراہی ہے، اگرچہ لوگ اسے حسن (اچھی) سمجھتے ہوں۔ (السنہ للمروزی:۸۲ وسندہ صحیح)

یاد رہے کہ ہمارے نزدیک اذانِ عثمانی پر بدعت کا فتویٰ صحیح نہیں ہے۔

حوالہ نمبر 8:

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ متعۃ الحج (تمتع) سے منع کرتے تھے۔

جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ معلوم ہوا تو انھوں نے حج اور عمرے (تمتع) کی لبیک کہی اور فرمایا:میں نبی ﷺ کی سنت کسی کے کہنے پر چھوڑ نہیں سکتا۔ (صحیح بخاری ج۱ص ۲۱۲ ح ۱۵۶۳)

حوالہ نمبر 9:

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے (صبح کی نماز) اندھیرے میں پڑھائی تو (سیدنا) ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ نماز روشنی میں پڑھو کیونکہ یہ تمھارے لئے زیادہ تفقہ والی (مناسب) ہے۔ (ابن ابی شیبہ ۱/ ۳۲۱ ح ۳۲۴۷ وسندہ صحیح)

جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فجر کی نماز پڑھاتے تو آدمی اپنے بیٹے کو تین ہاتھ دور پہچان نہیں سکتا تھا۔(ابن ابی شیبہ ۱/ ۳۲۰ح ۳۲۳۶ وسندہ صحیح)

یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سخت اندھیرے میں صبح کی نماز پڑھاتے تھے اور یہی راجح ہے۔

حوالہ نمبر 10:

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سورۂ ص میں سجدۂ تلاوت نہیں کرتے تھے اور فرماتے: یہ نبی کی توبہ ہے۔ (ابن ابی شیبہ ۲/ ۱۰ ح ۴۲۶۹ وسندہ حسن)

جبکہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سورۂ ص میں سجدہ کرتے تھے۔ (ابن ابی شیبہ ۲/ ۹ح ۴۲۵۹ وسندہ صحیح)

حوالہ نمبر 11:

سیدنا عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ (ابن ابی شیبہ ۲/ ۳۵۳ ح ۷۳۵۰ وسندہ صحیح)

جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے والے کو مارتے تھے۔ (ابن ابی شیبہ ۲/ ۳۵۰ ح ۷۳۳۵ وسندہ صحیح)

اس طرح کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں، بلکہ بعض صحابۂ کرام سے ایک ہی مسئلے میں دو طرح کے فتوے بھی ثابت ہیں ۔ مثلاً:

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ، ابو بکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) کے پیچھے نماز پڑھی ہے، وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم جہراً نہیں پڑھتے تھے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ا/ ۴۱۱ ح۴۱۴۴وسندہ صحیح)

جبکہ سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عمر (رضی اللہ عنہ) نے (نماز میں) بسم اللہ الرحمن الرحیم جہراً پڑھی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ۱/ ۴۱۲ ح ۴۱۵۷ وسندہ صحیح، شرح معانی الآثار للطحاوی ۱/ ۱۳۷، السنن الکبریٰ للبیہقی ۲/ ۴۸)

جو شخص (اپنی بیوی سے) جماع کرے اور انزال نہ ہو تو اس کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:وہ غسل نہیں کرے گا۔ إلخ (مصنف ابن ابی شیبہ ۱/ ۹۰ح۹۶۲ وسندہ صحیح)

جبکہ دوسری روایت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب شرمگاہ سے شرمگاہ مل جائے تو غسل واجب (فرض) ہے۔ (ابن ابی شیبہ ۱/ ۸۶ح۹۳۳ وسندہ حسن، التاریخ الکبیر للبخاری ۳/ ۲۱۴ وسندہ حسن)

تنبیہ: یہ ایک طویل مضمون ہے۔ اصل اور مکمل مضمون پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اس مضمون کے آخر میں اہلِ حدیث (یعنی اہلِ سنت) بھائیوں کی خدمت میں عرض ہے کہ علمائے حق کے بعض اجتہادی مسائل میں بعض اختلافات پر تنگ دل نہ ہوں اور نہ ایک دوسرے کے خلاف فتوے لگانا شروع کر دیں بلکہ صبر کریں اور اسی طرح برداشت اور رواداری کا مظاہرہ کریں جیسا کہ صحابہ و تابعین اور سلف صالحین نے اپنے باہمی اختلافات پرکیا تھا۔ درگزر کریں، راجح کو ترجیح دیں اور وسعتِ نظری سے کام لیں۔ علمائے کرام کا احترام کریں اور ادب کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ اہلِ حدیث کے تمام مخالفین علمی میدان میں ہمیشہ شکست خوردہ اور مغلوب رہیں گے۔ان شاء اللہ

سلف صالحین کے درمیان اجتہادی مسائل میں اختلافات کی اصل وجہ یہ تھی کہ بعض مسائل میں نصِ صریح واضح نہ ہونے کی وجہ سے انھیں اجتہاد کرنا پڑا لہٰذا یہ اختلاف رونما ہوا۔ بعض تک صحیح حدیث نہ پہنچی تو انھوں نے اجتہاد سے کام لیا لیکن جب اُن تک صحیح حدیث پہنچ گئی تو انھوں نے آلِ تقلید کی طرح ضد اور ہٹ دھرمی سے کام نہیں لیا بلکہ فوراً رجوع کر لیا۔ مثلاً:سیدنا ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ سے بیٹی، پوتی اور بہن کی وراثت کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا: بیٹی کے لئے آدھا ہے اور بہن کے لئے آدھا ہے، ابن مسعود کے پاس جا کر پوچھ لو، وہ میری تائید کریں گے۔ پھر ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) سے پوچھا گیا اور انھیں ابو موسیٰ (رضی اللہ عنہ) کا قول بتایا گیا تو انھوں نے فرمایا: میں اس کے بارے میں وہ فیصلہ کروں گا جو نبی ﷺ نے کیا تھا: بیٹی کے لئے آدھا ہے، پوتی کے لئے چھٹا حصہ ہے اور اس طرح دو تہائی پوری ہو گئی، جو باقی بچا وہ بہن کا ہے۔ پھر ابو موسیٰ (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: جب تک یہ عالم تمھارے درمیان موجود ہیں مجھ سے مسئلے نہ پوچھو۔ (صحیح بخاری:۶۷۳۶ ملخصاً)

معلوم ہوا کہ سیدنا ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ نے حدیث معلوم ہونے کے بعد فوراً اپنے فتوے سے رجوع کر لیا تھا اور یہی اہلِ ایمان کی عظیم نشانی ہے۔ والحمد للہ (۱۳/ فروری ۲۰۱۰ء)

تنبیہ: یہ ایک طویل مضمون ہے۔ جسے یہاں اختصار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اصل مضمون ماہنامہ الحدیث شمارہ 72 صفحہ 25 تا 36 سے لیا گیا ہے۔ تقریباً بارہ صفحاتی مضمون ہے۔


aaj ki hadees/hadith by zubair ali zai rahimahullah