Maktaba-tul-Hadith homepage
Search Monthly AlHadees Hazro

نمازِ تراویح کی تعدادِ رکعات کیا ہے؟

فضیلۃ الشیخ ابو ظفیر حافظ محمد ندیم ظہیر حفظہ اللہ


الحمدللّٰہ رب العٰلمین والصلٰوۃ والسلام علیٰ رسولہ الأمین، أما بعد:

قربِ الہی کے حصول کے لئے جتنی بھی تگ ود و کی جائے کم ہے۔ کیونکہ اہل ایمان کی زندگی کا مطمح نظر ہی یہ ہوتا ہے کہ اس کائنات میں اللہ رب العزت راضی ہوجائے اور آخرت میں وہ سُرخرو ہوجائیں۔

اس سلسلے میں ایک بہترین ذریعہ قیام اللیل ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((علیکم بقیام اللیل فإنہ دأب الصالحین قبلکم، و قربۃ إلی اللہ عزوجل ومکفرۃ للسیّئات ومنھاۃ عن الإثم))

قیام اللیل کو لازم پکڑو کیونکہ یہ تم سے پہلے نیک و صالح لوگوں کا طریقہ ہے۔ اور یہ تقرب إلی اللہ، خطاؤں کا کفارہ اور گناہوں سے محفوظ رہنے کا ذریعہ ہے۔ [کتاب فضل قیام اللیل والتہجد واللفظ لہ: ۴ واسنادہ حسن، سنن ترمذی ۳۵۴۹ ب]

نیز آپ ﷺنے فرمایا:

((وأفضل الصلاۃ بعد الفریضۃ صلاۃ اللیل))

فرض نماز کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والی نماز، رات کی نما ز ہے۔ [صحیح مسلم: ۱۱۶۳]

یہی نمازجب ماہِ رمضان میں ادا کی جاتی ہے تو قیامِ رمضان اورعام لوگوں کے نزدیک تراویح وغیرہ کہلاتی ہے۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

((من قام رمضان إیماناً و احتساباً غفرلہ ما تقدم من ذنبہ))

جس شخص نے ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کیا اس کے سابقہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ [صحیح بخاری: ۱۹۰۱، صحیح مسلم: ۷۵۹]

اس قدر فضیلت والی نماز کی تعدا دِ رکعات کیا ہے؟

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

’’ما کان یزید في رمضان ولا في غیرہ علٰی إحدیٰ عشرۃ رکعۃ‘‘ إلخ

رمضان ہو یا غیر رمضان رسول اللہ ﷺگیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ [صحیح بخاری: ۲۰۱۳]

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گواہی سے معلوم ہوا کہ

  1. تہجد، قیام اللیل، قیامِ رمضان اور تراویح وغیرہ ایک ہی نماز کے مختلف نام ہیں۔

  2. رسول اللہ ﷺ رمضان ہویا غیر رمضان رات کو گیارہ رکعات پڑھتے تھے۔

سیدنا جابربن عبداللہ الانصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

’’صلی بنا رسول اللہ ﷺ في رمضان ثمان رکعات والوتر‘‘ إلخ

رسول اللہ ﷺنے ہمیں رمضان میں آٹھ رکعتیں اور وتر پڑھائے۔ [صحیح ابن خزیمہ ۲/ ۱۸۳ ح ۱۰۷۰، صحیح ابن حبان (الاحسان) ۴/ ۶۲،۶۴ ح ۲۴۰۱، ۲۴۰۶]

یہی تعداد رکعات جلیل القدر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی ثابت ہے۔

امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اُبی بن کعب اور تمیم الداری رضی اللہ عنہما کو حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کو (قیامِ رمضان میں) گیارہ رکعات پڑھائیں۔ [موطأ امام مالک ۱/ ۱۱۴ ح ۲۴۹، السنن الکبریٰ للبیہقی ۲/ ۴۹۶]

بلکہ آلِ تقلید، غیر اہلِ حدیث تک اس حقیقت کا اعتراف کر چکے ہیں کہ سنت گیارہ رکعات ہی ہیں۔ مثلاً:

ملا علی قاری حنفی نے کہا:

’’فتحصل من ھٰذا کلہ أن قیام رمضان سنۃ إحدیٰ عشرۃ بالوتر في جماعۃ فعلہ علیہ الصلٰوۃ والسلام‘‘

اس سب کا حاصل(نتیجہ) یہ ہے کہ قیامِ رمضان (تراویح) گیارہ رکعات مع وتر، جماعت کے ساتھ سنت ہے، یہ آپ ﷺکا عمل ہے۔ [مرعاۃ المفاتیح ۳/۳۸۲]

خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی لکھتے ہیں:

’’اور سنت مؤکدہ ہونا تراویح کا آٹھ رکعت تو بالاتفاق ہے‘‘[براہین قاطعہ ص۱۹۵]

٭ جب رسول اللہ ﷺ، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور خود غیر اہلِ حدیث اکابر سے ثابت ہو گیا کہ تراویح ۸ + ۳ = ۱۱ (گیارہ) رکعات ہیں تو پھر…… قیل و قال چہ معنی دارد؟

ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ملحوظ رکھنا چاہئے:

﴿ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖٓ اَنْ تُصِیْبَھُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ یُصِیْبَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴾

جو لوگ رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں انھیں اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہوجائیں یا انھیں کوئی المناک عذاب پہنچے۔ [النور: ۶۳]

دیکھئے محدّث العَصر حَافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب ’’تعداد رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ‘‘ کا ’’پیش لفظ‘‘

شیئر کریں:

آج کی حدیث