صفحاتMaktaba-tul-Hadith homepage

محرم کے مسائل
(Muharram Ky Masaael)

یونیکوڈ مضامین کی مکمل لسٹ دیکھیں


تحریر: حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

شائع ہوا: ماہنامہ الحدیث شمارہ 21 صفحہ نمبر 7

بعض لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ ’’محرم میں شادی نہیں کرنی چاہیے‘‘ اس بات کی شریعتِ اسلامیہ میں کوئی اصل نہیں ہے۔

خاص طور پر محرم ہی کے مہینے میں قبرستان پر جانا اور قبروں کی زیارت کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہے ، یاد رہے کہ آخرت و موت کی یاد اور اموات کے لیے دعا کے لیے ہر وقت بغیر کسی تخصیص کے قبروں کی زیارت کرنا جائز ہے بشرطیکہ شرکیہ اور بدعتی امور سے مکمل اجتناب کیا جائے۔

عاشوراء ( 10 محرم ) کے روزے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سمجھتا ہوں کہ عاشوراء کے روزے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ گزشتہ سال کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔

ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ رمضان کے بعد سب سے بہترین روزے ، اللہ کے ( حرام کردہ ) مہینے محرم کے روزے ہیں۔

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ: یہودیوں کی مخالفت کرو اور نو ( محرم) کا روزہ رکھو۔

محرم حرام کے مہینوں میں سے ہے ۔اس میں جنگ وقتال کرنا حرام ہے الا یہ کہ مسلمانوں پر کافر حملہ کر دیں ۔ حملے کی صورت میں مسلمان اپنا پورا دفاع کریں گے۔

محرم 6ھ میں غزوہ خیبر ہوا تھا۔

دس محرم 61ھ کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کربلاء میں مظلومانہ شہید کئے گئے ۔ ان کی شہادت پر شور مچا کر رونا ، گریبان پھاڑنا اور منہ وغیرہ پیٹنا یہ سب حرام کا م ہیں ۔ اسی طرح ’’ امام زادے‘‘ وغیرہ کہہ کر افسوس کی مختلف رسومات انجام دینا اور سبیلیں وغیرہ لگانا شریعت سے ثابت نہیں ہے۔


یونیکوڈ مضامین کی مکمل لسٹ دیکھیں