صفحاتMaktaba-tul-Hadith homepage

اظہار خوشی مگر کیسے؟
(Khushi Kis Tara Manaaein?)

یونیکوڈ مضامین کی مکمل لسٹ دیکھیں


تحریر: الشیخ حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ

شائع ہوا: ماہنامہ الحدیث شمارہ 4 صفحہ نمبر 4

غم و خوشی، رونا و ہنسنا، مشکلات و راحت اور مختلف نشیب وفراز، زندگی کا حصہ ہیں،لیکن انسان فطرتی طور پر خوشی حاصل کرنے میں جلد باز واقع ہوا ہے ا وریہی عجلت پسندی اسے دنیا ومافیھا سے بے پروا کر دیتی ہے حالانکہ ’’دین اسلام‘‘ مکمل ضابطہ حیا ت ہے یہ دین جہاں حقوق اللہ و حقوق العباد کی ادائیگی کا پابند بناتا ہے وہاں اظہار خوشی میں بھی ادخلو فی السلم کآفۃکا درس دیتا ہے۔

ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ کو جب (بھی) مسرور کن معاملہ پیش آتا یا آپ (ﷺ) کو، کوئی خوش خبری دی جاتی تو فوراً اللہ تعالی کا بجالاتے ہوئے سجد ہ ریز ہو جاتے۔ (ابو داؤد: ۲۷۷۴، ابن ماجہ: ۱۳۹۴، ترمذی: ۵۷۸ وقال: ’’حسن غریب‘‘)

حقیقی مومن خوش کن حالات میں ایمان کا سودا کرتا ہے نہ غم کے موقع پر ہی ڈگمگاہٹ ( کمزوری) کا شکار ہوتاہے۔

ارشاد نبوی ﷺ ہے:

’’مومن آدمی کا بھی عجیب حال ہے کہ اس کے ہر حال میں خیر ہی خیر ہے اور یہ بات کسی کو حاصل نہیں سوائے اس مومن آدمی کے کہ اگر اسے کوئی خوشی پہنچی اور شکر ادا کیا تو بھی ثواب ہے اگر نقصان پہنچا اور صبر کیا تو بھی ثواب ہے۔‘‘ (صحیح مسلم : ۲۹۹۹)

یہی طرز عمل ہمارے اسلاف کا تھا۔

کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنی قبولیتِ توبہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے خوشخبری کا ذکر کرتے ہیں کہ:

’’میں نے ایک پکارنے والے کی آوازسنی، جبل سلع پر چڑھ کر کوئی بلند آواز سے کہہ رہا تھا اے کعب بن مالک! تمہیں بشارت ہو یہ سنتے ہی میں سجدے میں گر پڑا‘‘ (بخاری : ۴۴۱۸)

امام نووی فرماتے ہیں : یہ حدیث دلیل ہے کہ ہر نعمت کے حصول یا کسی مشکل سے چھٹکاے کے بعد سجدہ شکر مستحب ہے۔ (صحیح مسلم مع شرح نووی ۱۷ / ۹۰)

قارئین کرام : خوشی آزادی و شادی کی ہو یا میلاد النبی ﷺ کی مروجہ طریقہ کے مطابق اس کا جشن منانا قرآن وحدیث اور اسلامی شعار کے منافی ہے ۔اللہ تعالی ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین


یونیکوڈ مضامین کی مکمل لسٹ دیکھیں