صفحاتMaktaba-tul-Hadith homepage

فضائلِ سلام (السلام علیکم کہنے کے فوائد)
(Salam Kehny Ky Fawaaed)

یونیکوڈ مضامین کی مکمل لسٹ دیکھیں


تحریر: فضیلۃ الشیخ حافظ ندیم ظہیر حفظہ اللہ

شائع ہوا: ماہنامہ الحدیث شمارہ 5 صفحہ نمبر 26 تا 27

سلام مسلمانوں کا امتیازی وصف اور وقار ہے۔ ابتدائے آفر ینش سے ’’سلام‘‘ کی جامعیت، افضلیت اور اہمیت مسلّم ہے، عہدِ نبوی ﷺ میں بھی ا س کی ترویج پر خوب زور دیا گیا ہے، اب تا قیامت یہ مسلمانوں کا شعارہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اے ایمان والو! تم اپنے گھر وں کے علاوہ دوسرے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہوجب تک تم اجازت نہ لے لو اور گھر والوں کو سلام نہ کر لو۔ (النور:۲۷)

دوسرے مقام پر فرمایا:

پس جب تم گھروں میں داخل ہونے لگو تو اپنے گھر والوں پر سلام کرو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ (النور:۶۱)

آغازِ سلام

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو ان سے کہا: جاؤ اور فرشتوں کی اس جماعت کو سلام کرو اور وہ جو جواب دیں اسے غور سے سنو کیوں کہ وہی تیرا اور تیری اولاد کا سلام ہوگا۔

جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو ان سے کہا: جاؤ اور فرشتوں کی اس جماعت کو سلام کرو اور وہ جو جواب دیں اسے غور سے سنو کیوں کہ وہی تیرا اور تیری اولاد کا سلام ہوگا۔

تحفۂ سلام

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اور جب تمہیں (سلام کا) تحفہ دیا جائے تو تم اس سے بہتر تحفہ انھیں دو، یا وہی انھیں لوٹا دو۔

اس آیت کی تائید درج ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے:

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے ’’السلام علیکم ‘‘ کہا۔ آپ ﷺ نے اس کا جواب دیا بعد ازاں وہ بیٹھ گیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا :دس نیکیاں ہو گئیں۔ پھر ایک دوسرا شخص آیا اس نے ’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ‘‘ کہا، آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جوا ب دیا۔ چنانچہ وہ بیٹھ گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بیس نیکیاں ہو گئیں، بعد میں ایک اور شخص آیا اس نے’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘‘ کہا۔ آپ ﷺ نے اس کے سلام کا جواب دیا۔ وہ بیٹھ گیا آپ ﷺ نے فرمایا: تیس نیکیاں ہو گئیں۔ (سنن ابی داؤد:۵۱۹۵، ترمذی:۲۶۸۹ واسنادہ حسن)

بہترین اسلام

ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، أی الإسلام خیر؟ کہ اسلام میں بہتر بات کیا ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر بات یہ ہے کہ تو (بھوکے کو) کھانا کھلائے اور ہر واقف و ناواقف کو سلام کہے۔ (صحیح بخاری:۱۲،صحیح مسلم:۳۹)

محبت اور سلام

بغض و عناد، فتنہ و فساد کو کس طرح نبی رحمت ﷺ نے الفت و محبت، اخوت و بھائی چارے میں تبدیل کر دیا؟ وہ کون سا نسخۂ کیمیا ہے؟ جی ہاں، اسے نبی کریم ﷺ کی زبانِ مبارک سے سنئے اور اپنی زندگیوں کو محبتوں سے بھر لیجئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم جنت میں نہیں جاؤ گے یہاں تک کہ ایمان لے آؤ اور تم مومن نہیں ہو گے یہاں تک کہ ایک دوسرے سے محبت کرو۔کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اسے اختیار کرو گے تو آپس میں محبت کرنے لگو گے (اور وہ یہ ہے کہ) تم آپس میں سلام کو پھیلاؤ اور عام کرو۔ (صحیح مسلم:۵۴)

جنت اور سلام

سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ کوفرماتے ہوئے سنا، اے لوگو! سلام کو پھیلاؤ، لوگوں کو کھانا کھلاؤ، رشتے داروں اوراقربا کے حقوق ادا کرو اور اس وقت اٹھ کر نماز پڑھوجب لوگ سوئے ہوئے ہوں (یعنی تہجد) تو تم ’’جنت‘‘ میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ گے۔ (ترمذی:۲۴۸۵)

قربتِ الہی اور سلام

سلام میں پہل کرنا قربتِ الہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

سب سے زیادہ اللہ کے قریب وہ لوگ ہوں گے جو سلا م کہنے میں پہل کرتے ہیں۔ (ابو داؤد:۵۱۹۷ وسندہ صحیح)

قارئین کرام: مذکورہ سطور میں انتہائی اختصار کے ساتھ سلام کی فضیلت رقم کی گئی ہے لہذا ہمیں بحیثیت مسلمان ’’سلام‘‘ کو عام کرنا چاہئے اور کیونکہ یہ قربت الہی کے حصول اور جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے اور غیر مسلموں کے ایجاد کر دہ : ہائے، بائے، ہیلواور نمستے وغیرہ الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے۔ کیونکہ کافروں سے مشابہت کی ممانعت ہے اللہ ہمیں اعمالِ صالحہ کی توفیق دے۔ (آمین)

مکمل (یعنی اصلی) مضمون کے لئے دیکھیں: ماہنامہ الحدیث شمارہ 5 صفحہ نمبر 26 تا 27


یونیکوڈ مضامین کی مکمل لسٹ دیکھیں