صفحاتMaktaba-tul-Hadith homepage

باب الرخصۃ فی ذالک (سنن ابی داود)

یونیکوڈ مضامین کی مکمل لسٹ دیکھیں


بابُ الرُّخْصَۃِ فِي ذَالِکَ

سنن ابی داؤد

حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

2012

یوٹیوب چینل


الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ رسولہ الامین، اما بعد. بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سابقہ باب میں قضائے حاجت کے وقت قبلے کی طرف رُخ کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ اُس کی اجازت کا باب: باب الرخصۃ فی ذالک ہے۔

اگر ایسا کوئی باب باندھا جائے، یعنی محدّث کوئی باب باندھے اور اُس کے بعد اُس کی اجازت والا باب باندھے تو دیوبندی، بریلوی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پہلا باب منسوخ ہو گیا ہے۔

یعنی پہلی بات منسوخ ہے۔

الیاس گھمن کا بھی یہی ماننا ہے۔

اس بارے میں، میں نے ایک مضمون بھی لکھا تھا جو ماہنامہ الحدیث شمارہ 59 صفحہ نمبر 25 تا 44 پر چھپا تھا۔ (مضمون کا نام: الیاس گھمن کے [قافلہ حق] کے پچاس جھوٹ)

تو اُن کے اُصول کی رُوح سے اِس باب نے سابقہ باب کو منسوخ کر دیا۔

حالانکہ حنفیوں کے نزدیک بیت اللہ کی طرف رُخ کرنا حرام ہے۔

پیٹھ کرنا بھی وہ (حنفی) مکروح سمجھتے ہیں۔ جائز نہیں سمجھتے۔

تو اُن کے بابوں والے اُصول کے لحاظ سے انھیں یہ چاہئے تھا کہ کہ وہ پہلے باب کو منسوخ سمجھتے۔

اصل میں اُن کا (بریلویوں اور دیوبندیوں کا) یہ اُصول ہی غلط ہے۔

حدیث کو سمجھنے کے لئے محدثین کی طرف ہی رجوح کرنا پڑھے گا۔ یہ نہیں کہ اپنی طرف سے انسان منسوخ کہتا رہے۔

بیت اللہ کی طرف رُخ کرنا بھی اور پیٹھ کرنا بھی۔

یہ باب (باب الرخصۃ فی ذالک) اجازت کا باب ہے۔

امام ابو داود رحمہ اللہ نے فرمایا:

حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہ بنُ مَسْلَمَةَ عن مالِكٍ

مالک سے مراد امام مالک ہی ہوتے ہیں اور خاص طور پر عبد اللہ بن مسلمۃ امام مالک کے شاگردوں میں سے ہیں۔

مالک بن انس بن ابی عامر الاصبحی المدنی (امام مدینہ)

تابعین میں اور ہیں مثلاً مالک بن دینار ہیں اسی طرح کچھ اور تابعین بھی ہیں جن کا نام مالک سے شروع ہوتا ہے۔

تو یہ امام مالک سے روایت ہے اور یہ امام مالک کی جو کتاب موطا ہے، اس میں یہ روایت لکھی ہوئی ہے۔

موطا کے بہت سے نسخے ہیں۔ ان میں سے جو مدرسوں میں پڑھایا جاتا ہے یحیٰ بن یحیٰ کا نسخہ، اُس میں یہ روایت لکھی ہوئی ہے۔

عبداللہ بن مسلمہ نے بھی موطا امام مالک روایت کی تھی۔ ان کے نسخے میں بھی یہ روایت ہونی چاہئے البتہ ان کو نسخہ جو چھپا ہوا ہے وہ ناقص ہے۔

اس حدیث کو امام بخاری نے صحیح بخاری میں امام مالک کی سند سے بیان کیا ہے۔

عن یَحْيی بنِ سَعِیْدٍ ...

موطا امام مالک میں امام مالک نے جتنی روایتیں بھی یحیٰ بن سعید سے روایت کی ہیں اُن سے مراد ہے یحیٰ بن سعید بن قیس بن قہد الانصاری رضی اللہ عنہ۔

قیس بن قہد ...

((قاف)) دو نکتوں والا اور ((ہا)) لاہور والی اور ((دال))۔

یہ غلطی سے بعد کتابوں میں فہد چھپ جاتا ہے۔

فہد نہیں ہے قہد ہے۔ یعنی ((فا)) نہیں ((قاف)) ہے۔

یہ وہ صحابی (رضی اللہ عنہ) ہیں جن کی صبح کی (نمازِ فجر) کی سنتیں رہ گئی تھیں: قیس بن قہد۔

یہ قلیل الروایۃ صحابی ہیں یعنی انھوں نے بہت کم روایتیں بیان کی ہیں۔

قیس بن قہد مشہور صحابی نہیں تھے۔ مشہور صحابہ جیسے ابو بکر صدیق، عمر فاروق، عثمان، علی رضی اللہ عنہم وغیرہ سے شاید ہی کبھی کسی نماز کی سنتیں رہی ہوں۔ مشہور صحابہ نہ صرف تمام سنتیں پڑھتے تھے بلکہ وہ راتوں کو جاگ کر تہجد بھی باقاعدگی سے پڑھتے تھے۔

تو اُن کے بیٹے تھے سعید اور اُن کے پوتے تھے یحیٰ۔

یہ بہت بڑے محدّث تھے مدینہ کے۔

اِن پر تدلیس کا الزام ہے مگر ثابت نہیں ہے۔ بری ہیں من التدلیس۔

عن مُحَمَّدِ بنِ یَحْيَی بنِ حَبَّانَ ...

وہ بھی ثقہ راوی ہیں (عبد اللہ ابن مسلمہ)۔ یہ سارے ثقہ راوی ہیں (ابن حبان سمیت): محمد ابن یحیٰ ابن حبان

کوئی ابن حَبّان ہوتے ہیں کوئی ابن حِبّان ہوتے ہیں۔ یہ ابن حَبّان ہیں۔

عن عَمِّہِ وَاسِعِ بنِ حَبَّانَ ...

یہ باتیں آپ کو اُدھر ملیں گی ...

محمد بن طاہر الفتنی

الپتنی سمجھ لیں۔

پتن (ہندوستان) کے رہنے والے یعنی فتنی۔

اُن کی کتاب ہے: المغنی فی ضبط الرجال

بڑی اچھی کتاب ہے۔ اس کتاب کا گوجرانوالہ کا نسخہ صحیح ترین نسخہ ہے۔

جو عربوں سے چھپی ہے اُس میں غلطیاں بہت ہیں۔

یہ کتاب آپ کو بتا دے گی کہ کس راوی کے نام پر زبر ہے اور کس کے نام پر زیر۔ یعنی ابن حَبّان ہے یا ابن حِبّان۔

ایک دفعہ ہمارا مناظرہ ہوا تو عباس رضوی کہتا تھا کہ حَمِید الطویل۔ وہ حُمید کو حَمِیدکہتا تھا۔ اُس نے اسماء الرجال کی تعلیم حاصل نہیں کی ہوگی اس لئے اسے ان باتوں کا علم نہیں تھا۔

حنفی، دیوبندی اور بریلوی یہ تینوں فرقے حدیث اور اسماء الرجال میں بہت پیچھے ہوتے ہیں۔

انھوں نے اپنے چچا سے واسع بن حبان سے روایت بیان کی۔ وہ بھی ثقہ تھے۔

عن عَبْدِ اللّٰہ بنِ عُمرَ قال ...

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا:

لَقَدِ ارْ تَقَیْتُ عَلَی ظَھْرِ الْبَیْتِ ...

میں چڑھا تھا گھر کی چھت پر۔

دوسری روایتوں میں آتا ہے کہ

بیتُ اُختي

اپنی بہن کے گھر کی چھت پر چڑھا تھا۔

اُسے کوئی کام ہوگا۔ ظاہر ہے گھروں کی چھتیں بارشوں کی وجہ سے ٹپکتی ہیں، اسے ٹھیک کرنے چڑھا ہوگا یا کوئی اور کام ہو سکتا ہے۔

تو کسی وجہ سے چھت پر چڑھے تھے۔

بہن ان کی سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا (یعنی عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی بہن)۔

فَرَأَ یْتُ رَسُولَ اللّٰہ ﷺ

پس میں نے دیکھا رسول اللہ ﷺ

عَلَی لَبِنَتَیْنِ

دو اینٹوں پر

مُسْتَقْبِلُ بَیْتِ الْمَقْدِسِ ...

بیت المقدس کی طرف رُخ کیا ہوا تھا۔

لِحَاجَتِہِ.

قضائے حاجت کے لئے۔ یعنی

یقض حاجتہ

حاجت اپنی ادا کر رہے تھے۔

تو بیت المَقدِس راجح ہے بیت المُقَدَّس سے۔

اِس روایت کی ایک سند صحیح بخاری میں بھی ہے جس میں آتا ہے

قاعداً

کہ میں نے دیکھا آپ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے دو اینٹوں پر اور قضائے حاجت کر رہے تھے۔

قضائے حاجت دو طرح کی ہوتی: بڑا پیشاب بھی اور چھوٹا پیشاب بھی۔

تو ہم یہ ثابت کرتے ہیں کہ صحیح بخاری والی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ پیشاب بیٹھ کر کرنا چاہئے۔

کھڑے ہو کر پیشاب صرف اور صرف عذر پر معمول ہوگا۔ کبھی کبھار، مگر شرائط کے ساتھ۔ ساری شرطیں پائی جائیں گی پھر عذر پر معمول ہو گا۔

بعض دیوبندی اعتراض کرتے ہیں کہ صحیح بخاری میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے والی روایت ہے مگر بیٹھ کر پیشاب کرنے والی کوئی روایت نہیں۔ تو ہم کہتے ہیں کہ

قاعداً عَلَی لَبِنَتَیْنِ

کے الفاظ ہیں۔ تو آپ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے۔

ہم کہتے ہیں کہ آؤ نا تمہاری جو کتاب ہے جس کو تم مسند الامام اعظم کہتے ہو یعنی مسندِ ابی حنیفہ۔ اِس کتاب میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے والی روایت ہے۔ بیٹھ کر پیشاب کرنے والی کوئی روایت نہیں۔

صحیح بخاری میں تو پھر بھی قاعداً ہے۔ یہ بہت اہم نقطہ ہے۔

حنفی، دیوبندی اور بریلوی تینوں فرقے اِس کتاب کو امام ابو حنیفہ کی کتاب مانتے ہیں۔

ان کی ایک کتاب جامعہ المسانید بھی ہے جسے خوارزمی نے لکھا ہے۔

تو اس میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے والی روایت ہے بیٹھ کر پیشاب کرنے والی کوئی روایت نہیں۔ قاعداً والی کوئی روایت نہیں ہے۔ ہم کہتے ہیں نکالو اپنی کتاب سے۔ تم حنفی لوگ تو بیٹھ کر پیشاب کر ہی نہیں سکتے۔ تمہیں تو کھڑے ہو کر پیشاب کرنا چاہئے۔ ہمارے لئے تو قاعداً کے الفاظ صحیح بخاری میں ہیں۔

دوسرا یہ کہ ہمارے نزدیک صرف اور صرف صحیح بخاری میں سارا دین نہیں ہے۔ صحیح بخاری کے علاوہ صحیح مسلم ہو، ابو داود ہو، طبرانی ہو، کوئی بھی صحیح روایت ہو ہم مانیں گے۔ ہمارا یہ کوئی دعویٰ نہیں ہے۔

کبھی کسی مناظرے میں کسی بات میں یہ دعویٰ کبھی نہ کیجئے گا کہ صرف اور صرف بخاری مسلم ہم مانتے ہیں۔

نہیں۔ صحیح حدیث ہم مانتے ہیں۔ پھر جو چیز حدیث سے ثابت ہے، قرآن اور حدیث سے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسند ابی حنیفہ کہاں سے آئی اور کس نے لکھی؟

اِس کتاب کو حنفیوں کے ایک مولوی حصکفی نے لکھا تھا۔

حصکفی ساتویں یا آٹھویں یا نویں یا دسویں صدی ہجری کا مولوی ہے۔ یعنی امام ابو حنیفہ سے بہت بعد گزرا ہے۔ یہ فقہی ہے۔

اُس نے یہ کتاب لی تھی:

ابو محمد عبد اللہ بن محمد بن یعقوب البخاری الحارثی

امام بخاری کی طرح یہ آدمی (ابو محمد عبد اللہ الحارثی) بھی بخارہ کا رہنے والا تھا۔

ابو محمد الحارثی کی مسند ابی حنیفہ چھپی ہوئی ہمارے پاس (مکتبۃ الحدیث حضرو لائبریری میں) موجود ہے۔

ابو محمد الحارثی کی کتاب کو حصکفی نے لیا۔ اصل کتاب میں سندیں لکھی تھیں۔ ابو محمد الحارثی نے ساری سندیں لکھی تھیں کیونکہ ابو محمد الحارثی امام ابو حنیفہ سے تین سو سال بعد گزرا ہے۔

حصکفی نے وہ ساری سندیں حذف کر دیں۔ یعنی حصکفی نے ابو محمد الحارثی کی کتاب مسند ابی حنفیہ سے ساری سندیں ختم کیں۔

حصکفی نے ابو محمد الحارثی کا نام بھی حذف کر دیا۔

حصکفی نے اِس طرح بیان کرنا شروع کردیا:

ابو حنفیہ عن فلان عن فلان

یعنی ابو محمد الحارثی اور ابو حنیفہ کے درمیان تمام راویوں کو حذف کر دیا۔

اب حنفی، دیوبندی اور بریلوی کہتے ہیں کہ ہمارے راوی تھوڑے ہیں۔

ابو محمد الحارثی کے حالات اسماء الرجال میں موجود ہیں۔

یہ اپنے زمانے کے کذابین میں، دجالوں میں، بالاجماع جھوٹے لوگوں میں شمار ہوتا تھا۔

میزان الاعتدال نکال لیں، لسان المیزان نکال لیں۔ اسی طرح کی اسماء الرجال کی دوسری کتابیں نکال لیں۔

امام بیہقی نے صحیح سند کے ساتھ ایک بڑے محدّث سے نکل کیا ہے اپنی کتاب (قراءت ۔۔۔) میں نکل کیا ہے:

کان ینسج الحدیث

وہ حدیثیں گھڑتا تھا۔

نسج کہتے ہیں جس طرح جولاہا کپڑا تیار کرتا ہے۔ تو وہ اُس طرح حدیثیں تیار کرتا تھا۔ اُس کا کام ہی یہی تھا۔

اور لوگوں نے بھی اُس پر جرح کی ہے۔

حسن بن زیاد الکوفی (ابو داود کی دوسری سند کا راوی) بنیادی راوی نہیں ہے۔ حسن بن زیاد الکوفی امام ابو حنیفہ کے شاگردوں میں سے بہت ہی گندا راوی تھا۔ یہ قوم لوط کی بقایا میں سے تھا۔ اس کے متعلق محدثین نے سخت ترین جرح کی ہے۔ یعنی وہ نمازوں میں بھی قوم لوط کی طرح کی حرکتیں کرتا تھا۔

حسن بن زیاد الکوفی پر مناظرہ یا بات کرنے کے لئے کوئی حنفی تیار نہیں ہوگا۔

یزید بن ہارون نے کہا ہے:

اوا مسلم ہو؟

کیا وہ مسلمان ہے؟ اس سے بڑی کیا جرح ہو سکتی ہے۔

میں نے حسن بن زیادہ پر ایک مضمون لکھا تھا جس کا نام تھا:

نصب العماد فی تحقیق: الحسن بن زیاد

یہ مضمون شائع ہوا: ماہنامہ الحدیث شمارہ 16 صفحہ نمبر 30 تا 37

حسن بن زیاد الکوفی کا امام شافعی سے مناظرہ بھی ہوا تھا۔ یہ جوتے لے کر بھاگا تھا۔ یہ سارا واقعہ لسان المیزان میں لکھا ہوا ہے۔

ایک وزیر جس کا نام فضل بن ربیع تھا، اس نے یہ مناظرہ کرایا تھا۔ اس وزیر نے دونوں (امام شافعی اورحسن بن زیاد الکوفی) کی دعوت کی۔

امام شافعی نے کہا یہ آدمی میرے ساتھ بات نہیں کر سکتا۔ اُس وزیر نے کہا بات کرواؤں گا۔

امام شافعی نے حسن بن زیاد الکوفی سے پوچھا کہ اُس آدمی کے بارے میں تو کیا کہتا ہے جو نماز پڑھتا ہے اور نماز کے دوران کسی دوسرے آدمی پر زنا کی تمہت لگاتا ہے۔

یعنی نماز کے دوران کہتا کہ فلاں شخص زانی ہے۔ فلاں یہ ہے فلاں وہ ہے۔

اُس کی نماز کے متعلق تم کیا کہتے ہو؟

حسن بن زیاد الکوفی نے کہا: اُس شخص کی نماز ٹوٹ گئی۔

امام شافعی نے کہا: اُس شخص کا وضو؟

حسن بن زیاد الکوفی نے کہا: وضو تو بحالہ ہے۔ بالکل قائم ہے۔ وضو نہیں ٹوٹا۔

امام شافعی نے پوچھا: اگر کوئی شخص نماز میں ہنسے تو؟ اونچی آوز سے۔

حسن بن زیاد الکوفی نے کہا: اُس شخص کی نماز ٹوٹ گئی ہے۔

امام شافعی نے پوچھا: اُس شخص کا وضو؟

حسن بن زیاد الکوفی نے کہا: وضو بھی ٹوٹ گیا۔ یعنی اِس صورت میں وضو قائم نہ رہ سکا۔

امام شافعی نے کہا کہ تمہارے نزدیک تو نماز میں ہنسنا قضب المخسنات سے زیادہ بڑا گناہ ہے۔

یعنی اگر کوئی شخص پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتا ہے اُس تہمت لگانے والے شخص سے زیادہ وہ شخص گنہگار ہے جو نماز میں اونچی آواز میں ہنستا ہے۔

حسن بن زیاد الکوفی جوتے لے کر بھاگ گیا۔ اُس نے کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔

امام شافعی نے وزیر فضل بن ربیع سے کہا کہ میں نے تجھے منع کیا تھا کہ یہ شخص (حسن بن زیاد الکوفی) مجھ سے باتیں نہیں کرسکتا۔

یہ وزیر فضل بن ربیع کسی بغدادی خلیفہ کا وزیر تھا۔ شاید خلیفہ کا نام ہارون الرشید تھا یا مامون الرشید۔ اِس وزیر کے حالات تاریخ کی کتابوں میں ملتے ہیں۔ یہ بہت مشہور وزیر تھا۔

ابو محمد عبد اللہ بن محمد بن یعقوب البخاری الحارثی کی کتاب مسند ابی حنیفہ ساری موضوع ہے۔ یہ شخص جھوٹا راوی ہے۔ اس شخص نے اپنی مرضی کی سندیں لکھی ہیں۔ وہ بھی جھوٹے راویوں کی سندیں۔ تو یہ کتاب ہی ثابت نہیں۔

ہمارے لئے صحیح بخاری کے علاوہ وہ حدیث بھی موجود ہے جس میں امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہ جو آدمی کہے کہ رسول اللہ ﷺ

کان یبول قائماً فلا تصدقوہ

کہ آپ ﷺ کھڑے ہوکر پیشاب کرتے تھے، تو اُس شخص کو سچا نہ سمجھو۔

اس حدیث میں ((کان یبول)) کے الفاظ ہیں۔ یہ تو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے الفاظ ((بال قائماً)) کہہ رہے ہیں۔ ((کان)) والی بات نہیں ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا عام معمول یہ تھا کہ آپ بیٹھ کر پیشاب کرتے تھے۔ بغیر عذر کے کھڑے ہو کر پیشاب کرناصحیح نہیں ہے۔

کیونکہ مسند البزار میں ایک روایت ہے:

ان من الجفاء ان تبول قائماً او کما قال رضی اللہ عنہ

میں سمجھتا ہوں کہ یہ ظلم میں سے ہے کہ کوئی شخص بغیر عذر کے کھڑے ہو کر پیشاب کرے۔

مسند البزار والی روایت کی سند حسن ہے۔

اور صحابہ کے آثار اُن میں سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اثر ہے کہ میں نے کبھی بھی اسلام قبول کرنے کے بعد کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔

اور بعض دوسرے آثار ہیں کہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنا جائز ہے۔

بعض اوقات کوئی آدمی بیمار ہوتا ہے، بعض لوگ اس طرح کا لباس پہنتے ہیں کہ بیٹھ نہیں سکتے، بعض جگہوں پر بیٹھنے کی جگہ ہی نہیں ہوتی۔

اس صحیح حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہےکہ بیت المقدس کی طرف پیٹھ کرنا جائز ہے۔

میرے نزدیک حسن روایت دوسرے علماء کے نزدیک صحیح ہوتی ہے۔ میں اس روایت کو اس لئے حسن کہتا ہوں کیونکہ اُس روایت پر جرح ہوتی اور جرح مردود ہوتی ہے۔ اور کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ میری حسن اور شیخ البانی کی حسن میں فرق ہے۔

اس حدیث سے بہت سے مسئلے ثابت ہوتے ہیں۔

کسی کی اجازت سے مکان کی چھت پر چڑھنا جائز ہے۔

مکان کی چھت پر کوئی کام ہو تو پڑوسیوں کی اجازت سے ہی چھت پر چڑھنا چاہئے۔ وگرنہ نہیں چڑھنا چاہئے۔

دوسرا یہ کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہر وقت اس تلاش میں رہتے تھے کہ نبی کریم ﷺ کے ہر قول و فعل کو وہ دیکھیں۔ پوری کوشش کرتے تھے۔ غور سے دیکھا انھوں نے۔

تیسرا اس سے مسئلہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا فعل بھی دلیل ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ قول ہی ہو۔ فعل سے ثابت ہو جائے گا تو وہ ہمارے لئے دلیل ہے۔

اگرچہ قول کو ترجیح ہے مگر دونوں حجت ہیں۔

قول اور فعل میں بظاہر تعارض نہیں ہوتا۔ اگر تعارض ہوگا تو پھر تطبیق دی جائے گی ورنہ قول کو ترجیح ہو جائے گی۔

لیکن یہ صرف اُصول میں لکھی جانے والی باتیں ہیں کیونکہ عملی طور پر تعارض ہوتا نہیں تطبیق ہوتی ہے۔

نبی کریم ﷺ اپنے قول کی مخالفت نہیں کرتے تھے۔

اس سے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا متبع سنت ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔

اس سے ہماری لٹرینوں کا جواز بھی ثابت ہوتا ہے۔ یعنی ہماری لٹرینوں میں دو اینٹوں کی طرح پاؤں رکھنے کے لئے دو جگہیں بنی ہوتی ہیں۔

اس سے گھر میں لٹرینیں بنانا بھی ثابت ہوتا ہے۔

اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ابعد جانا یعنی دور جانا ضروری نہیں ہے۔ گھر کے قریب بھی پیشاب کیا جاسکتا ہے۔

حدیث پر اگر غور کیا جائے تو ایک ایک روایت سے اتنے مسئلے نکلتے ہیں۔

فقہ الحدیث ہم مانتے ہیں۔ البتہ حنفیوں کا اہل الرائے کا فقہ ہمارے نزدیک غلط ہے۔جس میں کتا اٹھا کر نماز پڑھنا جائز قرار دی جاتی ہے اور بچہ اٹھا کر نماز پڑھنا مکروح سمجھا جاتا ہے۔

لاہور میں ایک مناظرے میں، میں نے کتے والی روایت پیش کی تھی۔

یہ فتاویٰ شامی کی روایت ہے جلد نمبر 1 صفحہ 153 یا 156

طلباء میں سے ایک نے سوال کیا کہ شیخ صاحب وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ نہ کہو کہ فتاویٰ عالمگیری یہ کہتی ہے، دُرِّ مختار یہ کہتی ہے، فقہ حنفی یہ کہتی ہے۔ ہمیں تو ہمارے امام کا قول ہی کافی ہے۔

شیخ صاحب نے کہا: یہ بات ہوئی ہے جب مولانا محمد حسین بٹالوی رحمہ اللہ وہ جب محمد قاسم نانوتوی کے پاس گئے تو نانوتوی نے کہا میرے خلاف کوئی شامی وغیرہ کا قول پیش نہیں کرنا۔ صرف ابو حنیفہ کا قول پیش کرنا ہے۔ میں ابو حنیفہ کا مقلد ہوں۔ اسی طرح احمد رضا خان بریلوی بھی کہتا تھا۔ اسی طرح اوروں نے بھی کہا ہے۔

ہم یہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں دھوکا دینے کے لئے ایسا کہتے ہو۔ اگر یہ بات صحیح ہوتی تو تمہاری کتابوں میں فتاویٰ شامی کے حوالہ نہ ہوتے۔ فتاویٰ عالمگیری کے حوالے نہ ہوتے۔ تم تو انھی کتابوں سے فقہ لیتے ہو۔

فتاویٰ دارالعلوم دیوبند تیرا چودہ جلدوں میں چھپی ہے۔ اس کتاب کا کوئی صفحہ نکالیں ہر صفحے پر فتاویٰ شامی کے حوالے ہیں۔

جو مسئلہ ان کے مفتی سے پوچھا جائے گا وہ فتاویٰ شامی فتاویٰ عالمگیری اُس کا حوالہ دیتا ہے۔ آج کل بھی اور پہلے بھی۔

احمد رضا خان بریلوی کا فتاویٰ رضویہ دیکھ لیں۔

دیوبندیوں کے اور فتاوے دیکھ لیں۔

سب فتاوے امام ابو حنیفہ کا قول نہیں پیش کرتے بلکہ فتاویٰ عالمگیری سے حوالے پیش کرتے ہیں۔

میری ایک دفعہ دیوبندی مفتی سے بات ہوئی تو اس نے کہا کہ فقہ حنفی کا جزئیہ ہے کہ دوسرا جنازہ نہیں ہوتا۔ یہ کلیہ نہیں ہے۔ یعنی امام ابو حنیفہ کا قول نہیں ہے۔ نیچے کسی مولوی نما فقہی کا قول ہے۔ جزئیہ ہے۔ ہم جزئیہ نہیں چھوڑیں گے۔

اور ہمارے حضرو کے علاقے میں چونکہ بہت سے لوگ امریکہ، انگلینڈ میں ہوتے ہیں، یورپ میں ہوتے ہیں۔ تو اُن کی لاشیں کئی دنوں بعد آتی ہیں۔

جنازہ پہلے ہی ہوچکا ہوتا ہے۔ اِدھر حضرو میں جتنے مفتی ہیں وہ یہاں جنازہ نہیں کرتے۔ نہ لوگوں کو کرنے دیتے ہیں۔

ہم کہتے ہیں اِس اُصول کو تو مان لو۔ لوگوں کے سامنے یہ پیش کرو کہ ہم صرف ابو حنیفہ کا قول مانتے ہیں۔ اور کچھ نہیں کرتے۔ تو پھر نہ تم اپنی نماز ثابت کر سکتے ہو نہ کوئی اور مسئلہ ثابت کر سکتے ہو۔

یہ امام بو حنیفہ سے کلمہ اور درود ثابت نہیں کر سکتے۔ یہ حنفی نماز میں جو درود پڑھتے ہیں یہ ہمارا صحیح بخاری والا پڑھتے ہیں۔

اللھم صل علیٰ محمد وعلی آل محمد ...

والا درود جو ہم پڑھتے ہیں یہ صحیح بخاری میں ہے۔ اور بیہقی وغیرہ میں بھی بخاری والی سند کے ساتھ موجود ہے۔

ان (حنفیوں) کے کسی امام سے چاہے وہ حسن بن زیادہ جیسا کذاب ہی کیوں نہ ہو، اُس سے درود ثابت نہیں ہے۔

یہ اپنے امام کا قول پیش کرنے کو صرف اُسی صورت کہتے ہیں جب یہ پھنستے ہیں۔ ورنہ یہ دوسرے اقوال پیش کرتے ہیں۔ آپ ان کی کتابیں دیکھ لیجئے۔

یہ (حنفی) کہتے ہیں کہ نماز میں تیرا یا چودہ فرض ہیں، ایسا ان کے امام سے کوئی ثابت نہیں۔

اگلی حدیث میں ہے:

حَدَّثَنا مُحَمَّدُ بنُ بَشَّارٍ ...

محمد بن بشار بنداروی کو کہتے ہیں۔ بندار الحدیث۔ حدیث کے بڑے ماہر تھے۔ ان پر جرح ہے مگر باطل جرح ہے۔

قال: حَدَّثَنا وَھْبُ بنُ جَرِیرٍ ...

وہب بن جریر بن ہازم

قال: حَدَّثَنا أبي ...

وہ اپنے والد جریر بن ہازم سے بیان کرتے ہیں۔

قال: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بنَ إِسْحَاقَ ...

یہ محمد بن اسحاق بن یسار امام المغازی۔ یہ صدوق تھے۔ مدلس تھے۔ سماع کی تصریح کریں تو ان کی روایت حسن ہوتی ہے۔ یہ ثقہ نہیں ہیں صدوق کے درجے کہ ہیں۔ میں نے ایک مضمون بھی لکھا ہے جس میں پچاس سے اوپر محدثین سے ان کی توثیق ثابت ہے۔

مضمون کا نام: محمد بن اسحاق بن یسار اور جمہور کی توثیق

شائع ہوا: ماہنامہ الحدیث شمارہ 71 صفحہ نمبر18 تا 43

یہ (حنفی) اُسی صورت میں طعن کرتے ہیں جب مرضی کے خلاف روایت ہو گی۔ جب مرضی کے مطابق ہو گی تو ان کے تبلیغی نساب میں ثقہ لکھا ہوا۔ احمد رضا خان بریلوی نے ثقہ لکھا ہے۔ ان کے دوسرے لوگوں نے لکھا ہے۔

یہ (محمد بن اسحاق بن یسار) ابو حنیفہ کے استادوں میں سے تھے۔

اگرچہ یحیٰ بن سعید القطحان نے انھیں کذاب کہا ہے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ اگر ان کو دو چار محدثین نے کذاب کہا ہے تو مقابلے میں اکثریت ثقہ اور صدوق کہنے والی ہے۔ تو جب تعارض واقع ہو جائے گا تو ہم جرح و تعدیل میں جمہور کو ترجیح دیتے ہیں۔

کیونکہ امام مسلم نے مقدمہ صحیح مسلم میں ہمیں یہ اُصول سمجھایا ہے۔

اسی طرح دیوبندی سرفراز خان صفدر نے بھی کہا ہے۔

یحیٰ بن معین نے بھی توثیق کی ہے۔

یحیٰ بن سعید القطحان نے اور امام مالک نے (محمد بن اسحاق بن یسار کو) کذاب کہا ہے۔

جمہور میں بڑے درجے والے اماموں کو ترجیح حاصل ہے۔ تعداد کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔

بڑے درجے والے امام شعبہ ہیں۔ وہ اس کو (محمد بن یسار کو) ثقہ کہتے ہیں۔ صدوق کہتے ہیں۔

اسی طرح بڑے درجے والے امام بخاری ہیں۔ امام علی بن عبداللہ المدینی ہیں۔ اور بھی بہت سے بڑے درجے والے امام ہیں۔ سارے توثیق کر رہے ہیں۔ میں نے رسالہ الحدیث والے مضمون میں تمام کے نام لکھے ہیں۔

احمد بن حنبل کا ایک قول ہے۔ کتاب الضعفاء عقیلی میں۔ اس کی سند صحیح ہے۔ احمد بن حنبل نے لکھا ہے:

کان یکذب

محمد بن اسحاق کا عقیدہ صحیح نہیں تھا۔ یہ اہل سنت کے اماموں میں سے نہیں ہے۔ تشیع ہے اس میں۔

اِس کی امام مالک سے مخالفت ہوئی تھی۔ یہ امام مالک کو بُرا کہہ رہا تھا۔

اِسے اس لئے حسن درجے کا راوی کہا جاتا ہے کیونکہ جمہور نے اس کی توثیق کی ہے۔

جمہور کی بات اگر نہ مانیں تو یہ (محمد بن اسحاق) ثقہ نہیں ثابت ہو سکتا۔

جمہور کے نزدیک ((صدوق)) ہے۔

خود حنفیوں نے صراحت کی ہے:

ووثقہ الجمہور

عینی کہتا ہے:

ھو من الثقات الکبار عند الجمہور

حدیث کا اگلا حصہ ہے:

یُحَدِّثُ عن أَبَانَ بنِ صَالحٍ ...

اس روایت میں ((یُحَدِّثُ)) کے الفاظ ہیں لیکن اس سے سماع کی تصریح نہیں ہوتی۔

اسی روایت کی سماع کی تصریح مسند احمد میں موجود ہے۔ مسند احمد جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 360

ابان بن صالح صدوق راوی ہیں۔

عن مُجَاھِدٍ ...

مجاہد بن جبر۔ مفسرِ قرآن۔

عن جَابِرِ بنِ عَبْدِاللّٰہِ ...

رضی اللہ عنہ (انصاری)

قال: نَھَی نَبِيُّ اللّٰہ ﷺ أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃَ بِبَوْلٍ ...

نبی ﷺ نے قبلے کی طرف ہمیں منع فرمایا تھا کہ ہم اپنا رخ کریں۔ یعنی چھوٹا پیشاب کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ کرنے سے نبی ﷺ نے منع فرمایا تھا۔

آپ ﷺ نے چھوٹے پیشاب اور بڑے پیشاب دونوں سے منع فرمایا تھا۔ اس حدیث میں مختصر بیان کردیا گیا۔ ممکن ہے کہ آپ ﷺ نے دو مختلف مجلسوں میں منع فرمایا ہو۔

فَرَأیْتُہُ قَبْلَ أَنْ یُقْبَضَ بِعَامٍ یَسْتَقْبِلُھَا.

میں نے دیکھا آپ کی وفات سے ایک سال پہلے آپ اس طرف رخ کرتے تھے۔

اب اس روایت یہ ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے کہ آیا دوسری منع والی حدیثیں منسوخ ہیں یا کیا یہ نبی ﷺ کی تخصیص ہے یا جواز ہے۔

اس میں راجح یہی ہے کہ یہ اگر رخ ہوجائے تو جائز ہے۔ حرام یقینی نہیں ہے۔ کیونکہ نبی ﷺ سے رخ ہوجانا ثابت ہے۔

لیکن بہتر اور افضل یہ ہے کہ رخ نہ کیا جائے۔

قبلہ کی طرف رخ اور پیٹھ دونوں بہتر نہیں ہیں۔ لیکن پیٹھ کرنا بھی جائز ہے۔ رخ تو بالکل نہیں ہونا چاہئے۔

تو نبی ﷺ کا یہ فعل یا تو تخصیص پر معمول ہو گا یا بیانِ جواز پر۔


یونیکوڈ مضامین کی مکمل لسٹ دیکھیں